Breaking

Sunday, June 9, 2019

شیخ الاسلام امام محمد انوار اللہ فاروقی بحیثیت صدر الصدور حکومت آصفیہ

شیخ الاسلام امام محمد انوار اللہ فاروقی 
بحیثیت صدر الصدور حکومت آصفیہ

از: حضرت قطب معین الدین انصاریؒ (سوانح نگار حضرت شیخ الاسلام)

استاذ العلماء والسلاطین حضرت محمد انوار اللہ خان بہادر فضیلت جنگ علیہ الرحمہ کے صدر الصدوری پر تقرر کاذکر کرنیسے قبل اس خدمت سے متعلق کسی قدر گذشتہ تاریخ کا اعادہ یہاں خالی از دل چسپی نہ ہوگا۔ انتظام امور مذھبی کے ساتھ صدر الصدوری کا وجود شاہان مغلیہ سے قبل ہندوستان میں پایا جاتاہے…………
سلطنت بہمنی کے دور میں صدر الصدور یا قاضی القضاۃ ’’صدر جہاں‘‘ کہلاتے تھے۔ حضرت فضیلت جنگ کے اجداد میں صدر جہاں گذرے ہیں۔ نیز حضرت شیخ الشیوخ شہاب الدین سہروردی قدس سرہ کے اولاد میں سمرقند کے نام آور مشائخ خواجہ عابد خان المخاطب چین خاں بہادر عہد شاہجہاں بادشاہ جب ہندوستان آئے تو خدمت صدر الصدوری سے سرفراز کئے گئے تھے۔ اس خدمت کی ضرورت یوں داعی ہوئی تھی کہ مذہبی عبادت۔ مسافروں کی آسائش، محتاجوں کی پرورش، ذی علم اور با خدا حضرات کی خدمت کی خاطر روساء وقت، شاہانِ زمانہ نے اپنے مقبوضہ مقامات اور حدود سلطنت میں مساجد، معابد، خانقاہیں، گنبدیں، سرائیں، عاشورخانے، دھرم شالے بنوادئے۔ ان کے بقاء وقیام کے لئے معاش مقرر کردیں اور ان کا تحفظ واہتمام کسی موزوں شخص کے تفویض کردیتے جو صدر الصدور کے نام سے موسوم ہوتا۔ وہ وظائف نقدی اور مدد معاش کے نگران ہوتے۔ معاش کی یہ قسمیں ہوتیں:
(۱)اراضی: جاگیر، انعام (موضع انعام اراضی انعام) مقطعہ (اراضی مقطعہ یا موضع مقطعہ) اگر ہار (پن یا بلاپن) بھٹ۔
(۲) نقدی: یومیہ، معمولی، رسوم کُل اچاریہ، خلعتانہ بہ لحاظ نوعیتِ کاران سب معاشوں کی دو قسمیں تھیں:( ۱)مشروط الخدمت (۲)غیر مشروط الخدمت یا مدد معاش۔
مساجد:   خطابت، پیش امامی، موذنی، جاروب کشی، معمول رمضان، تیل چراغ۔
درگاہ:  عرس، عود وگل، خدمتیاں، مجاوری وغیرہ۔
خدمت شرعیہ:  قضاء ت، افتاء، احتساب، ذبیحات، اہل ہنود سے متعلق یہ ابواب متعلق تھے۔
جاترا:  اگنی ہوتر، نندادیپ، سدا برت، خدمت مٹھ، پوجاگیری ۔
ریاست حیدرآباد میں صدر الصدوری کا وجود تقریبا دو سو سال سے چلاآتا رہا۔ حکیم الحکماء محی الدولہ بہادر اور ان کے خاندان میں یہ خدمت سالہائے سال سے چلی آتی رہی یہا ںتک کہ مولانا عزت یار خاں محی الدولہ بہادر بموجب فرمان مندرجہ جریدہ غیر  معمولی مورخہ ۹؍خورداد ۱۳۲۱؁ف مطابق ۱۴؍ربیع الثانی ۱۳۳۰؁ف اس خدمت سے معزول کئے گئے۔
بتاریخ ۷؍ رمضان المبارک ۱۳۲۹؁ تخت نشینی اعلحضرت نواب میر عثمان علی خاں بہادر آصف جاہ سابع عمل میں آئی۔ بوجہ تعلیم حضرت کے ذمہ اس روز سے کوئی کام نہ رہا۔ سارے اوقات علمی مشاغل درس وتدریس اور تصنیف وتالیف میں صرف فرمانے لگے۔ نوماہ بھی نہ گذرنے پائے کہ اعلحضرت نے آپ کا تقرر۳؍تیر۱۳۲۱؁ف مطابق ۱۹؍جمادی الاول ۱۳۳۰؁ھ نظامت امور مذہبی وصد ر الصدوری ممالک محروسہ پر فرمادیا۔
حضرت عالم باعمل نہایت قانع واقع ہوئے تھے۔ استاد شاہ کی حیثیت سے جو تنخواہ ملتی تھی (ماہوار پانچسو روپے) کافی سمجھتے‘ جاہ دنیا سے کوئی سروکار نہ رکھتے۔ یہ خیال بھی خاطر میں نہ لاتے کہ آپ کے ساتھی آغا مرزا بیگ سردار الملک بہادر اور آغا سید علی شوشتری ستار الملک بہادر ہوگئے اور آپ ’’خان بہادر‘‘ مولوی محمد انوار اللہ ہی رہے۔ آپ کے اشعار سے اس کا اندازہ یوں ہوتا ہے:۔
دیکھئے جس کو ہے بس نام آوری کا پابند
ہے وہ عنقا جو ہو خلقت سے جدا نام سے دور
جس کو دل جمعی ہو جہاں میں انورؔ
مثلِ مرکز رہے وہ گردشِ ایام سے دور
باوجود اسکے آپ کی خاص عزت و وقعت رعایا و راعی دونوں کی نظروں میں از ابتداتا انتہا جانگزیں رہی چالیس پر پانچ برس آپ کے وصال کو ہوئے اس میں سرِ مو فرق نہ آیا۔(اس وقت 92برس ہوچکے ہیں)
یہاں بتلانایہ ہے کہ تقرر کے احکام آپ کو ۳؍تیر۱۳۲۱؁ف ملے۔ اس پر بارگاہ شاہی میں عرض کی ’’جہاںپناہ۔ سرکاری ملازمت کے لئے انتہائی عمر (۵۵) سال مقرر ہے میں اس سے متجاوز ہوگیا ہوں‘‘۔ ارشاد ہوا ’’اس وقت ملک میں ان خدمات کے لئے آپ سے زیادہ کوئی موزوں نہیں ہے‘‘۔ بہ تعمیل حکم ۸؍تیر۱۳۲۱؁ف م ۲۴؍جمادی الاول ۱۳۳۰؁ھ سے آپ بہ اخذ جائزہ نظامت امور مذہبی وصدر الصدوری کا کام آغاز فرمائے اپنے مفوضہ کام کو نہایت دیانت داری سے انجام دیتے دوسال نہ گذرے کہ نواب مظفر جنگ بہادر معین المہام امور مذہبی کے انتقال پر جہاں پناہ نے آپ کی حسنِ کار گزاری وقابلیت کے مد نظر ۹؍خورداد ۱۳۲۲؁ف مطابق ۱۶؍جمادی الثانی۱۳۳۲؁ھ وزارت مذہبی کے عہدہ جلیلہ سے بطور خاص ممتاز فرمائے۔ جس کو تادمِ آخر آپ نہایت عمدگی اور جانفشانی سے انجام دیتے رہے۔ جب ہی تو ذات شاہانہ کے سواء مدار المہام عماد السلطنۃ نواب سالارجنگ ثانی آپ پر بہت اعتماد رکھتے۔ صیغہ مذہبی کے علاوہ دیگر امور ریاست میں آپ کی رائے پر عمل فرماتے۔ کونسل میں بھی آپ کے مشورے وقیع نظروں سے دیکھے جاتے۔
بحیثیت صدر الصدور معین المہام دولت آصفیہ حضرت فضیلت جنگ نے اتنی بڑی ذمہ دارانہ خدمات کو بعمر (۶۷ تا ۷۲) چھ سال کس طرح انجام دیئے اس کا کسی قدر خاکہ نذرِ ناظرین کیا جاتا ہے۔ یقینا جواں ہمت عہدہ داران کے لئے نشانِ راہ ثابت ہوگا۔
نواب سرسالارجنگ بہادر اولیٰ نے قلمرو دولت آصفیہ کی جدید ترتیب وتنظیم ضرورت زمانہ کا لحاظ کرتے مستحکم بنیادوں پر فرمائی تھی۔ مال وعدالت، فوج وکوتوالی اور محاسبی غرض تقریبا ہر ایک سر رشتہ کو مزین کیا۔ زندگی نے دفانہ کی۔ سر رشتہ مذہبی چھوٹ گیا۔ وہ حضرت مولاناؒ کے حصہ میں آیا۔
جب آپ نے ’’صدارت ا لعالیہ‘‘ کا جائزہ حاصل فرمایا۔ ایک اہلکار ایک متعینہ منصبدار مکتب نائب صدر الصدور۔ دو افراد۔ اسناد متفرقات دو صیغہ جات پر کل کام مشتمل تھا۔ سارے فرائض برائے نام تھے۔ صرف عطاء اسناد یا کچھ متفرق کام انجام پاتا تھا۔ آپ نے اولاً مددگار سے لے کر چپراسی تک کے عملہ کی منظوری حاصل فرمائی۔ تنظیم جدید میں مزید پانچ ابوابِ کار کے اضافہ کے ساتھ محکمہ صدارت العالیہ کو گیارہ ابواب۔ آٹھ صیغہ جات پر منقسم کیا گیا۔
آپ کے قبل محکمہ صدارت العالیہ کی کار کردگی کی نسبت بس یہ بتلادینا کافی ہے کہ اہل خدمات شرعیہ کو معہ ۱۳۰۶؁ لغایتہ ۱۳۳۰؁ پچیس سال کے عرصہ میں (۳۹) اسناد اجرا ہوئے تھے۔ صرف (۱۳۸) قضاۃ کا داخلہ مندرج تھا۔ محکمہ صدارت العالیہ اہل خدمات شرعیہ کی صحیح تعداد سے لاعلم تھا کہ اُن سے کوئی ربط ہی قائم نہ تھا۔
بڑی کا وش سے حضرت مولانا نے (۲۴۵) قضاۃ (۵۶) محتسبین(۱۷)مفتی اس طرح(۳۱۸) اہلخدمات شرعیہ کاریکارڈ بہم پہونچایا۔ من ابتداء جمادی الاول ۱۳۳۰؁ ھ لغایۃ ۱۳۳۶؁ سات سال کے عرصہ میں بمنظوری سرکار (۴۸) اہلخدمات کو اسناد جاری فرمائے۔ صدر الصدور کا نذرانہ اک لخت موقوف کر کے طالبانِ سند کی پریشانی وبیجا زیرباری کا سد باب کر کے آیندہ حصول اسناد میں کا فی سہولت پیدا فرمادی۔
سیاہ جات نکاح دستاویزات شرعی ہوتے ہیں بصورت نزاع عدالتوں میں پیش ہوتے ہیں اور تحریری شہادت کا اہم درجہ رکھتے ہیں۔ ان سے قرابت نسبی ثابت وراثت متعلق اور یہ ثبوت وراثت کا دارو مدار رکھتے ہیں۔ برین بناء حضرت مولانا نے سیاہ جات کی ترتیب وتحفظ کی جانب خاص توجہ مبذول فرمائی۔ سیاہ جات کو مرتب کر کے ان کی طباعت اس طورکروائی کہ ہر ایک کی تین کاپیاں اصل دفتر قضات مثنیٰ صدارت مثلث متعلقہ عدالت میں محفوظ کروادئے۔ اصل میں تغیرو تبدل پر صدارت وعدالت کے کاپیوں سے بعد تصدیق ثابت ہوجائے۔ یہ تمام رجسٹرات سیاہ جات نمونہ مقررہ بہ نگرانی صدارت العالیہ طبع ومحفوظ ہوتے۔ ہر ایک قضاء ت کو حسب الطلب بھیجدیئے جاتے۔ اس طرح ساری احتیاط کے ساتھ یکسانیت عمل بھی قائم فرمادئیے۔
مقررہ حق نکاح خوانی سے زائد کی ممانعت کر کے حسب نمونہ منظورہ رجسٹر فیس عقد خوانی قائم بوقت ترتیب سیاہیہ اس کی بھی تکمیل کرانے کے لئے جمیع قضاۃ ممالک محروسہ کو پابند فرمادیا۔
قاضی یا ان کے نائب کو مستقر سے چار چھ میل دور کبھی ایک ہی دن میں مختلف مقامات پر جانا پڑتا آپ نے اس کے لئے خرچ سواری فی میل دو آنے کے حساب سے مقرر فرمادیا۔
ہر دفتر قضاۃ میں رجسٹر فارغ خطی کا ہونا ضروری تھا تاکہ عقد ثانی کے وقت مطلقہ کی ختم مدت عدت معلوم ہوسکے یہ کام عدالت سے متعلق تھا۔ آپ نے عدالت العالیہ کو تحریک فرماکے وہاں سے جمیع نظماء عدالت کو پابند فرمادیا کہ وہ ہر فارغ خطی کی اطلاع متعلقہ دفتر قضاۃ کو کردے۔ اس طرح فارغ خطی کے عملیات تکمیل اور حدود شرع قائم ہونے کا انتظام فرمادیا۔
دیہات کے مسلمان عموما غیرمسلم رعایا کے ارتباط سے نام۔کام صورت وسیرت میں مسخ ہوچکے تھے۔ جس کی بناء پر اہلخدمات شرعیہ (قاضی، مفتی، محتسب) اپنے حلقہ جات میںدورہ کے پابند کئے گئے کہ ان کو اسلام کے ضروری مسائل، عبادات۔ اعتقادات سے مطلع  کریں اور جہاں ضرورت ہو واعظین بھی اس کام پر مامور کئے گئے چونکہ دورہ کا کام بالکل جدید تھا۔ بہت سارے موانعات پیش ہورہے ان سب کو رفع فرمادیا۔ فرائض دورہ معین کئے۔ اہل خدمات شرعیہ سے دورہ کی رپورٹیں طلب کیں۔ بعد تنقیح صدارت العالیہ سے ضروری ہدایات جاری فرمانے لگے۔اس سے چند ہی روز میں مسلمانان دیہات کے مذہبی احساسات جاگ اٹھے۔ چندہ سے جابجا مسجدیں تعمیر کر کے آپ کے پاس درخواستیں مصارف مسجد کے بابتہ پیش کرنے لگے۔ معتمدی متعلقہ کو توجہ دلانے پر مفید نتائج بر آمد نہ ہونے پر مجبورا سرکار میں گذارش پیش کر کے منظوری حاصل فرمائی۔ اس کا اقتباس درج ذیل ہے۔
’’سرکار کی توجہ اصلاح حالات اہل اسلام کی طرف مبذول ہے ان کے اصلاح کے تدابیر سوچنے کے لئے ایک خاص کمیٹی صدر مجلس اصلاح حالات مسلمانان منعقد ہے۔
مسلمانوں میں اب مذہبی احساس ہوچلا ہے اور وہ لوگ چندہ کر کے مسجدیں جابجا تیار کر رہے ہیں مگر اسکے ساتھ ہی یہ بھی درخواستیں پیش ہو رہی ہیں کہ ہم لوگوں میں اتنی قدرت نہیں ہے کہ ماہانہ مصارف پیش امام ومؤذن وغیرہ کے اخراجات برداشت کر سکیں اس لئے سرکار سے اس کا انتظام فرمایاجائے۔
محکمہ معتمدی عدالت صیغہ مذہبی سے عدم گنجایش کا عذر ہوتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہورہا ہے کہ درخواست گذاروں کو صاف جوابات دیدیئے جاتے ہیں۔ حالانکہ دیہات کے مسلمان نماز روزہ سے واقف نہیں ہیں۔ جب تک کوئی پیش امام پنج وقتہ نماز نہ پڑھائے وہ نماز پڑھ سکتے ہیں نہ ان کی نماز صحیح ہوسکتی ہے۔ اور نہ وہ نماز کے مسائل سیکھ سکتے ہیں۔ میری رائے یہ ہے کہ جہاں تعمیر وترمیم امکنہ کے لئے بیس پچیس ہزار سالانہ صرف ہوتے ہیں وہاں دوسو ماہانہ خاص تقررات پیش امام و موذنین کے لئے ہر سال شریک موازنہ ہوا کریں تو ممالک محروسہ کے متفرق مقامات میںبہ لحاظ ضرورت پیش اماموں اور موذنوں کے تقررات ہوسکتے ہیں۔ جس سے مسجدیں معمور ہوجائیں گی۔ اس لحاظ سے اتنی رقم کا صرف ہونا کوئی بے موقع نہ ہوگا بلکہ علاوہ ثواب جزل کے تمام اہل اسلام کی شکر گزاری کا باعث ہوگا جو پنج وقتہ نماز پڑھ کے دعائے سلامتی واز دیا دجاہ جلال سرکار میں مشغول وموظف رہینگے۔
لہذا امید ہے کہ یہ رائے پیشگاہ حضرت اقدس و اعلے خلد اللہ ملکہٗ میں پیش فرما کے منظوری حاصل فرمائی جائے گی۔
مدارالمہام بہادر نے آپ کی اس واجبی گذارش پر لحاظ فرما کے بارگاہ خسروی جہاں پناہی سے ۲۴۴۰۰ کی منظوری دس سال کے لئے ہر سال ۲۴۰۰ کے حساب سے حاصل فرمائی۔ ۱۳۲۳؁ف سے بتوسط امور مذہبی ماہوارات اجراء ہونے لگے۔
رزو لیوشن محکمہ سرکار ۳،۱۱ ۱۳۲۰؁ف میں اہلخدمات شرعیہ کا ہر سال امتحان مستقر ہائے اضلاع پر منعقد کرنے کی صراحت تھی۔ لیکن ابواب امتحان کی کوئی صراحت نہ تھی۔ اس کا تعین کرتے ہوئے ہر ماہ آذر میں امتحات منعقد کر کے ان کے نتائج سے مطلع کرنے آپ نے صاحبان اضلاع کو ذریعہ گشتی نشان ۱۳۲۲؁ف پابند فرمادیا۔ اہلخدمات کا ہر نوعیت علحدہ علحدہ نصاب موسومہ ’’رہبر اہلخدمات شرعیہ‘‘ مولوی غلام محی الدین صاحب قاضی گھن پورہ سے مرتب کروا کے شریک امتحان فرمایا۔ ملّا، موذن، پیش امام، نائب قاضی کے امتحانات سے مفید نتائج برآمد ہوئے۔ ان کی بدولت بہت سارے مسلم ضروریات دین  سے واقف ہوگئے۔ اہلخدمات شرعیہ کے ان امتحانات میں (۹۹۸) افراد ۱۳۲۲؁ف لغایتہ ۱۳۲۸؁ف کامیاب ہوئے۔
زمانہ سلف سے دار الافتاء بلدہ حیدرآباد میں قائم تھا۔ سلسلہ مفتیان میں محبوب نواز الدولہ نامی گرامی ذی علم مفتی گذرے ہیں۔ حضرت مولانا کے دور میں دار الافتاء کو چار چاند لگ گئے۔ صدارت العالیہ کے فتاوے ممالک محروسہ تک محدود نہ رہے۔ بلادِ ہند سے استفسار آنے اور ان کے جوابات جانے لگے۔ اس کی خصوصیت و وقعت روز افزوں بڑھتی گئی۔ بعض فتاوے اپنی نوعیت سے خاص ہیں۔ دو جلد ان فتاوے کے مولانا مفتی محمد رحیم الدین صاحبؒ نے مرتب کر کے بغرض استفادہ عام طبع کروائے ہیں۔
اسلام میں ذبیحہ کی خاص اہمیت ہے۔ اسی پر گوشت کی حلت وحرمت کا دارو مدار ہے۔ سلاطین نے اسی اہمیت کے مد نظر مسائل ذبیحہ سے واقف موزوں ملاؤں کے نام معاشیں اجراء کر کے انہیں اس خدمت پر مامور کردیا تھا۔ امتداد زمانہ نے غیر موزوں اور جاہل ملاؤں کو ان کی جگہ بحال رکھا اور وہ برابر معاشہاے عطیہ سلطانی پر قابض بتصرف تھے۔ اصل منشاء مصرف فوت ہورہاتھا۔ حضرت مولانا نے جملہ مسالخ بلدہ کے ذبیحہ کا انتظام عام اس سے کہ سرکاری ہوں یا خانگی بہ منظوری جہاں پناہی زیر نگرانی صدارت العالیہ لے لی۔ ملاؤں کے لئے امتحان کا لزوم عائد فرمادیا۔ جو ملاّ مسائل سے واقف تھے صرف انہیں کو بحال رکھا گیا۔ زمانہ سلف میں مسالخ کی آمدنی صدر الصدور کے ذاتی تصرف میں آیا کرتی تھی۔ قصاب من مانے اجرت لے کر جس سے چاہے ذبیحہ کا کام لے لیا کرتے۔ آپ نے اس کو مسدود فرمادیا۔ حق ذبیحہ بمنظوری سرکار حسب ذیل مقرر فرمایا۔
فی گوسفند ۲ پائی
فی گاؤ ۶ پائی
فی حلوانِ نرا پائی فی بچہ گاؤ ۳ پائی
ذبیحہ کی رقم سرکار میں جمع ہو کر اس سے ملاؤں کی تنخواہ مقرر کی گئی۔ مسائل سے واقف ملا کی شناخت کے لئے پرنچی پلے ’’ملا علاقہ صدارت العالیہ سرکار عالی‘‘ تیار کروا کے حوالہ فرمادیا۔
محارم شرعی جیسے خالہ۔ بھانجی۔ دو بہنوں کو نکاح میں جمع رکھنا صریح خلاف احکام اسلام ہے۔ بارگاہ جہاں پناہی میں حضرت نے عرضداشت پیش فرمائی کہ بعض مسلم عیر اقوام کے میل جول کی وجہ محارم شرعیہ کو اپنے نکاح میں جمع رکھتے ہیں۔ عدم جواز سے آگاہ کرنے پر بھی ترک پر راضی نہیں ہوتے لہذا ایسے لوگوں کے لئے قانونی سزا تجویز ہونا لازمی ہے۔ اس پر فرمان صادر ہوا کہ ایک کمیٹی بصدارت حضرت فضیلت جنگ بہادر ۔ مشیر قانونی ۔ نواب نظامت جنگ بہادر میر مجلس عدالت العالیہ اور مفتی نور الضیاء الدین منعقد ہو اور تجویز رائے سے اطلاع دی جائے۔
اس کمیٹی کی رائے پر حضرت کے انتقال کے بعد تعزیرات آصفیہ کی دفعہ (۴۲۱) الف میں یہ اضافہ ہوگیاکہ ’’کوئی مسلمان مرد کسی ایسی عورت سے دانستہ نکاح نہ کرے جو شرع شریف کے احکام کی رو سے اس پر حرام ہو۔ اس کو قید کی سزا دی جائے گی جسکی معیاد سات سال تک قرار دی جاسکے گی۔
قطعی حرمت وشدید ممانعت کے باوجود مسلمان استعمال ام الخبائث ودیگر مسکرات کے عادی ہوگئے تھے۔ حضرت کاخیال تھا کہ مسلمانوں کی حد تک مسکرات کا استعمال تعزیری جرم قرار دیاجائے  تاکہ وہ دین ودنیا کی خرابیوں سے بڑی حد تک محفوظ ہوجائیں۔ یہ آرزو پوری ہوتی نظر نہ آئی تو آپ نے کم از کم ایام متبرکہ میںسیندھی وشراب کی دوکانیں بمنظوری جہاں پناہی بند کروادئیے۔
آبادی سے باہر بہت سی ویران مساجد ایسی تھیں کہ جن کی بیحرمتی ہورہی تھی۔ نبی اکرمؐ کا فرمان حُب المسجد علامۃ الایمان کا تقاضہ یہ یہی تھا کہ ان کو چنوادیا جائے۔ آپ نے ایسا ہی کیا۔ خانہ ہائے خدا کو خرابات بننے سے بچالیا۔
تحفظ آداب و پابندی احکام شرع کے سلسلہ میں احترام ماہ رمضان المبارک ہر ایک مسلم پر واجب ہے۔ دن میں ہوٹلیں کھلی اور ان میں لوگ علانیہ کھاتے پیتے۔ تقاریب کے موقعوں پر دن دھاڑے دعوتیں ہوتی رہتیں۔ آپ نے مدافعتی احکام جاری کر کے اس کا انسداد فرمادیا۔ ہوٹلوں پر دے پڑنے لگے۔ علانیہ احکام شرع کی بے حرمتی کرنے کی لوگ جراء ت کرتے تھے۔
مدارس میں تعلیم دینیات کی بابتہ حضرت مولانا نے سرکار میں تحریک فرمائی جس کی بناء پر ’’کمیٹی تعلیم مذہبی‘‘ کاانعقاد عمل میں لایاگیا۔ اور آپ اس کے صدر قرار دیئے گئے۔
کمیٹی تعلیم مذہبی کی تشکیل:
مولانا مولوی محمد انوار اللہ خاںصدر۔ مولوی نظیر حسین فاروقی معتمد۔ مولوی حبیب الدین رکن۔ مولوی عبدالحق صدر مہتمم اورنگ آباد رکن۔ مولوی الہی بخش صدر مہتمم دار العلوم رکن۔ جناب ناظم صاحب تعلیمات رکن۔ صوبیدار گلبرگہ رکن۔ جناب پرنسپل صاحب نظام کالج رکن۔
اعراس کے مواقع پر طوائف اولیائے کرام کی مزارات پر مجرا دیا کرتی تھیں۔ یہ قبیح رسم یقینا اولیائے کرام کی ناراضی کا سبب اور برائیوں کی طرف راہ نمائی کا باعث تھی۔ حُکماً آپ نے اس کو بند کروادیا۔ نیز شاہراہوں اور بازاروں میں بھی ان کا رہنا سہنا بند کروادیا۔ پست اقوام کی بعض لڑکیوں کو مرلی بناکے چھوڑدیا جاتا تھا۔ وہ جس مرد سے چاہتے تعلق پیدا کرلیتی کوئی روک ٹوک نہ تھی۔ علی ہذا مخنثان کا گروہ بھی معاشرہ کے لئے بدنما داغ تھا۔ آیندہ کے لئے مرلی ومخنث بنانا آپ نے روک دیا اور قانونا جرم قرار دلوایا۔
عطیہ شاہی:
مشروط الخدمت جاگیر کا سودی قرض میں مکفول رہنا بہ ہر آئین درست نہ تھا۔ آپ نے اس مسئلہ کو بارگاہِ جہاں پناہی میں پیش فرمایا۔ آپ کی بموجب رائے محکمہ مال سے حسب فرمان مسترشدہ ۱۴؍جمادی الثانی ۱۳۳۴؁ھ معاش مشروط الخدمت کسی قرضہ وکفالت میں مکفول نہ ہوسکی۔ اسکی نسبت ممانعتی احکام ہوگئے۔ قرض کی بابت اصل رقم بھی اسٹیٹ سے ادا کردی گئی۔ نہ صرف صاحب سجادہ خرد بلکہ ہند و مسلم جمیع مشروط الخدمت معاش پانے والے حضرات مولانا کے اس فیض سے ہمیشہ کے لئے مستفید ہوگئے۔
بعض حصے حضرت کے کارہائے نمایاں سے بوجہ اختصار چھوڑدیئے گئے۔ انشاء اللہ آپ کے مبسوط تذکرہ ’’نور الانوار‘‘ میں مندرج کئے جائیں گے۔
ہے دکن کی سرزمین ہیروں کی زمیں
جس کی ہے تنویر کوہ نور سے روشن جبیں
کیسے کیسے کوہ نور اُبھرے یہاں ہر دور میں
نت نئے جو ہر عیاں ہوتے رہے ہر دور میں
لکل زمانٍ واحدٌ یقتدیٰ بہ
وھذا زمانِ انتَ لا شک واحدٌ
٭٭٭

No comments:

Post a Comment

Popular Posts

Recent In Internet

Popular Posts