Breaking

Saturday, June 20, 2020

تعارف کتب بانی جامعہ نظامیہ Taruf e Kutub e Bani-e-Jamia Nizamia

تعارف کتب بانی جامعہ نظامیہ



مولانا حافظ محمد عبیداللہ فہیم قادری ملتانی
شریک معتمد مجلس اشاعت العلوم و منتظم جامعہ نظامیہ

رواں سال حضرت شیخ الاسلام بانی جامعہ نظامیہ علیہ الرحمہ کے صد سالہ عرس شریف تقاریب تز ک و احتشام کے ساتھ منائی جا رہی ہیں اس سال مجلس اشاعت العلوم جامعہ نظامیہ کے 106 سال  ہوتے ہیں یہ مجلس علوم اسلامیہ کی مفید ‘ نادر تحقیقی اصلاحی اور معلومات آفریں کتب کی اشاعت کا ایک معتبر ادارہ  ہے ‘جس کو حضرت شیخ الاسلام بانی جامعہ نظامیہ نے 1330ھ میں قائم فرمایا ۔ حضرت شیخ الاسلام نے زمانہ کے تقاضے اور ضرورت کے مطابق جو مسائل قوم و ملت کے درپیش ہوئے ان موضوعات پر قلم اٹھایا اور آپ سے ایسی تصانیف عالم وجود میں آئیں جو قوم و ملت کیلئے نہایت مفید ہوئیں نیز وقت کے علماء اعلام کو بھی  شیخ الاسلام کسی نہ کسی موضوع پر تصنیف کا حکم دیتے اور اس کی طباعت کا انتظام کرواتے ۔ مولانا علیہ الرحمہ کی جملہ تصانیف پر تفصیل سے روشنی نہیں ڈالی جاسکتی البتہ مختصر تعارف پیش کیا جاسکتا ہے ۔ 

مقاصد الاسلام :

 مقاصد الاسلام اول تا یاز دہم ‘ بانی جامعہ کی معرکۃ الاراء تصنیف ہے ۔جب کبھی مولانا علیہ الرحمۃ کو اپنے مشغلہ علمی میں کوئی خاص خیال پیدا ہوتا تو آپ اس کو ایک مضمون کی شکل میں لایا کرتے تھے چونکہ ایسے مضامین عوام کے افادہ  کے لئے مناسب تھے ۔ بانی جامعہ نے اس کی اشاعت کے لئے مقاصد الاسلام کے نام سے کتاب شائع فرمائی جس کی اشاعت کوئی موقتی چیز نہیں تھی بلکہ جب کبھی مضامین ضبط تحریر ہوجاتے شائع کر دیئے جاتے مقاصد الاسلام کے تعلق سے کہا جاسکتا ہے کہ مختلف قسم کے جواہر ہیں جو ایک لڑی میںپرو دیئے گئے ہوں ۔ مقاصد الاسلام کے مضامین میں اخلاق ‘ تمدن ‘ فقہ اور کلام پر بحث ہے ۔ اور دیگر حصوںمیں مسئلہ تقدیر ‘ تحقیق ولایت ‘ تصوف ‘  مسلۂ جبر و قدر ‘ وحدۃ الوجود ‘ معجزہ ‘اتباع صحابہ ‘  وغیرہ مضامین موجود ہیں ۔ اس زمانہ میں اس کا مطالعہ بے حد ضروری ہے ۔

کتاب العقل : 

اس کتاب میں عقل کی حقیقت ‘ حکمت قدیمہ وجدیدہ کا بیان ہے بصارت کے متعلق حکماء کے مختلف اقوال نقل کر کے آپ نے ثابت کیا ہے کہ انسان کی بصارت بعض علانیہ اور ظاہر چیز کی حقیقت و ادارک سے بھی محروم ہے ۔ 
زمین کشش ثقل کا بھی ذکر فرمایاہے ۔ کمیونزم کی جانب سے اٹھنے والے سوالات کے جوابات دیئے ۔ جدید تعلیم یافتہ حضرات کے لئے یہ کتاب ایک نعمت غیر مترقبہ ہے ۔ اس کتاب کو جدید کمپیوٹر کتابت کے ساتھ شائع کیا جائیگا ۔ 

انوار احمدی :  

مدینہ طیبہ میں لکھی ہوئی سیرۃ النبی ﷺپر ایک ایسی کتاب ہے جو مولانا علیہ الرحمۃ کے جذبات حب نبوی کا آئینہ ہے ۔ ایک ایک لفظ سے عشق مصطفوی ظاہر ہوتا ہے اس کتاب پر حضرت مولاناالحاج امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ تعالیٰ نے تقریظ لکھی ہے جب آپ مدینہ منورہ حاضری  کے لئے گئے تھے اس وقت اس کتاب کو تحریر فرمایا ۔ اس کتاب کو جدید کمپیوٹر کتابت ‘ آفیسٹ پرینٹنگ پر دیدہ زیب ٹائیٹل کے ساتھ شائع کیاگیا ۔ 

افادۃ الافہام ۔ 

جب ہندوستان میں مرزا غلام احمد قادیانی کذاب نے تدریجاً ادعاء نبوت کی طرف قدم بڑھایا تو مسلمانوں نے مخالفت شروع کی ۔ شیخ الاسلام وہ پہلی شخصیت ہیں جنھوں نے مذہب قادیانی کے رد میں قلم اٹھایا ۔ افادۃ الافھام (اول ‘دوم) انوار الحق اور مفاتیح الاعلام کے نام سے چار کتب شائع فرمائیں ان میں کسی ایک کا جواب بھی کذاب مرزا قادیانی نے نہیں دیا ۔ غرض ان حصوں کے دیکھنے سے مذہب قادیانی کی اصل تصویر دکھائی دیتی ہے ۔ 

حقیقۃ الفقہ (اول دوم) :

 مسلمانوں کا ایک فرقہ جو اپنے کو اہل حدیث سے موسوم کرتا ہے وہ فقہ کا مخالف ہے اور فقہاء کو برا کہنے والا ہے ‘ جو اکابرین دین پر طرح طرح  کے الزام عائد کرتا ہے اور ان کو بدنام کرنے کی کوشش کرتا ہے اور فقہ کو علماء کا ایک ڈھکوسلہ اور فقہ پر عمل کو نہ صرف غیر ضروری سمجھتا ہے بلکہ گمراہی بتلاتا ہے ۔ جس کی وجہ سے عام طور پر مسلمانوں پر برا اثر پڑنے کا قوی احتمال تھا ۔ اس غلطی کو دور کرنے کیلئے مولانا علیہ الرحمۃ نے یہ کتاب دو حصوں میں لکھی ہے ۔ اس میں فقہ کی تاریخ بتائی ہے اور اس کی تدوین میں فقہاء نے جو مصیبتیں اٹھائیں ان کو ظاہر فرمایا ۔ جس سے فقہ پر کسے جانے والے اعتراضات خودبخود دور ہوجاتے ہیں ۔ اسی طرح عقل و نقل سے یہ بھی ثابت کیا کہ قرآن و حدیث سے احکام  مستنبط کرنا ہر شخص کا کام نہیں ہے بلکہ احکام کے استنباط کرنے والوں میں چند شرائط کا پایاجانا ضروری ہے ‘ ورنہ اس کے استنباط میں بجائے ہدایت کے گمراہی کا احتمال ہے ۔ غرض کہ بانی جامعہ کی یہ تصنیف قابل دید و قابل مطالعہ ہے ۔

شمیم الاانوار :

حضرت شیخ الاسلام علیہ الرحمۃ کے تصوف سے لگاؤ کے باعث جو خیالات و جذبات اٹھتے تھے ان کو نظم فرما دیاکرتے تھے ۔ شیخ الاسلام کی کل مؤلفات کم و بیش چالیس تک پہونچتی ہیں جو آپ نے زمانہ کی ضروریات کے مطابق تالیف فرمائیں ان کتب کی مقبولیت کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ اکثر کتابیں کئی بار شائع ہوچکی ہیں بانی جامعہ کے منشاء و مقصد کے مطابق مجلس اشاعت  العلوم اپنے قیام کے 106 سالہ عرصہ میں اردو ‘ عربی ‘ فارسی ‘ انگریزی ‘ تلگو زبان  میںشائع کیں جو اندرون  و بیرون ملک بے حد مقبول و فائدہ بخش ثابت ہوئیں ۔ اس وقت تک مجلس اشاعت العلوم نے تفسیر ‘ حدیث ‘ فقہ ‘ تاریخ ‘ سیرت ‘ اخلاق ‘ اسلامی تہذیب و تمدن  فضائل و مناقب ‘ زیارت قبور ‘علم غیب ‘میلاد مبارک ‘وسیلہ ‘شعر و ادب وغیرہ پر شیخ الاسلام مولانا حافظ محمد انوار اللہ فاروقی علیہ الرحمۃ و دیگر اقطاع عالم کے علماء اعلام کی مدلل تصانیف شائع کیں جن کا مطالعہ ایمان میں تازگی اور روح میں بالیدگی پیدا کرتا ہے ۔ اس کے علاوہ اس ادارہ سے دوسرے علماء کرام  کے جو کتب طبع ہوئیں ان میں بعض کتب ایسی ہیں جن  کے متعلق بجا طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس فن میں یہ پہلی کتاب ہے اور اس کی طباعت کا اعزاز مجلس اشاعت العلوم کو حاصل ہوا ۔ ان کتب میں خاص طور پر نثر المرجان فی رسم نظم القرآن جو سات جلدوں پر مشتمل ہے ۔ اس میں قرآن کریم کے رسم الخط و نظم سے متعلق بحث ہے ۔ یہ کتاب اس اسلوب پر عالم اسلام کی ایک منفرد کتاب ہے ۔ شیخ الاسلام کے وصال کے بعد مجلس اشاعت العلوم کی سرگرمیاں بہت ہی محدود ہوگئیں اور مالیہ کی کمزوری کی وجہ سے چند اور علوم و فنون کے پیش بہا نوادرات کی اشاعت عمل میں نہ آسکی ۔ مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی خلیل احمد صاحب کے ذریعہ مجلس اشاعت العلوم کی نشاۃ ثانیہ ہوئی ۔ اس وقت حضرت مولانا مفتی عظیم الدین صاحب صدر نشین اورمولانامحمد خواجہ شریف صاحب شیخ الحدیث معتمد مجلس اشاعت العلوم ہیں ۔ 
الحمد للہ مجلس اشاعت العلوم سے مقاصد الاسلام ‘ مختارات الادب ‘ شعائر اللہ ‘ سلام الاسلام دوبارہ شائع ہوئیں ۔ اور قدیم کتب کو تزئین نو کے ساتھ سہ بارہ شائع کیا گیا ۔ مقاصد الاسلام کے حصص ختم ہوچکے تھے ۔ مقاصد الاسلام کے جملہ حصص آفیسٹ پر طبع کروائے گئے ۔ 

فتاوی نظامیہ :

 نیز مفتی اول حضرت مولانا مفتی محمد رکن الدین صاحب رحمۃ اللہ علیہ مفتی اعظم جامعہ نظامیہ کے جاری کردہ فتاویٰ پہلی طباعت میں تین جلدوں میں شائع ہوئے تھے ۔ لیکن عرصہ دراز سے ناپید تھے  ۔ مجلس اشاعت العلوم جامعہ نظامیہ نے دوبارہ تین جلدوں کو یکجا کر کے ایک ہی جلد میں بہترین عصری انداز کی کمپیوٹر کتاب ‘ آفیسٹ طباعت اور دیدہ زیب ٹائیٹل اور خوبصورت گیٹ اپ کے ساتھ شائع کیا ہے ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ ملک کی ہر عدالت جامعہ نظامیہ کے فتاوی کو تسلیم کرتی ہے ۔ جدید طباعت میں مسائل کو ابواب کے تحت یکجا کیا گیا اور اس کی ترتیب میں فقہ کی مشہور کتاب ’’ ہدایہ‘‘ کی ترتیب ملحوظ رکھی گئی ہے تمام عربی عبارتوں کو چھان بین اور مراجعت کے بعد درستگی کا اہتمام کیا گیا ہے۔ نیز اردو زبان کی رعایت رکھی گئی ہے  ۔ فہرست کے بعد فتاوی میں جن کتب کی عبارتوں کا حوالہ دیا گیا ہے ان کتابوں  کے ناموں کی فہرست بھی بطور مصادر و مراجع (کتابیات) تیاری کی گئی ہے ۔ قرآن کریم کی آیتوں پر مکمل ‘ نیز دیگر عربی عبارتوں پر ضروری اعراب لگائے گئے  ہیں فتاوی کی عبارت انتہائی آسان اور عام فہم ہے ۔ معمولی اردوداں بھی آسانی سے مسائل کو سمجھ سکتا ہے ۔ بروقت شرعی احکام کو معلوم کرنے کیلئے ہر مسلمان کے گھر میں فتاوی نظامیہ کا رہنا از حد ضروری  ہے ۔ اسی طرح  فقہ کی آسان  اور مشہور کتاب نصاب اہل خدمات شرعیہ جس کو مختلف ناشرین طبع کر وا رہے تھے لیکن اس میں بہت غلطیاں ہو رہی تھیں مجلس اشاعت العلوم نے اس کو بعد تصحیح اور تنقیح جدید کمپیوٹرائزڈ کروا کر شائع کیا ۔ انگریزی داں طبقہ کے بے حد اصرار پر نصاب اہل خدمات شرعیہ کا انگریزی ترجمہ کیا جا کر شائع کیاگیا ۔ مولوی سید احمد علی صاحب معتمد جامعہ نظامیہ نے اس کا  انگریزی ترجمہ کیا ہے اس کے علاوہ حضرت محدث دکن ابو الحسنات مولانا سید عبداللہ شاہ نقشبندی مجددی قادری ؒ کی معرکۃ الاراء کتاب زجاجۃ المصابیح کا اردو ترجمہ بنام نور المصابیح شائع ہوا ۔ مجلس اشاعت العلوم کے طباعتی پروگراموں میں طلبہ جامعہ نظامیہ کا تعاون بھی حاصل رہا ‘کئی کتابیں طلبہ جامعہ نظامیہ نے شائع کیں ۔ 
سال حال صد سالہ عرس سراپا اقدس کے موقع پر کئی ایک کتابیں منظر عام پر لائی گئیں اور جدید کمپیوٹر طباعت ‘ دیدہ زیب ٹائٹل کے ساتھ شائع کی گئیں ۔ ’’حقیقۃ الفقہ (حصہ اول و دوم) کی کمپوزنگ کی گئی اور نہایت باریک بینی و دقت نظری سے پروف ریڈنگ کی گئی ۔ مولانا موسی باحجاج العجاج حال مقیم شارجہ کے تعاون سے یہ کتاب شائع ہوئی ۔ افادۃ الافہام (حصہ اول و دوم)  بھی کمپیوٹرائز ڈ کی گئی ‘دقیق النظری کے ساتھ دیکھی گئی اور فارغین جامعہ نظامیہ ۲۰۰۸؁ کے تعاون و کاکردگی سے شائع ہوئی ۔’’ کتاب العقل‘‘ مولانا سید شاہ فیض الدین قریش سلیم پاشاہ متولی و سجادہ نشین درگاہ قادری باغ کے تعاون سے شائع ہوئی ۔ ’’انوار الحق‘‘ نائبین ‘ قضاء ت ویلفیراسوسی ایشن گورنمنٹ قضاء ت قلعہ محمد نگر حیدرآباد و رنگاریڈی ریاست تلنگانہ‘ نواب صاحب کنٹہ کے تعاون سے شائع کی گئی ۔ ’’الکلام المرفوع فیما یتعلق بالحدیث الموضوع ‘‘ طلبہ فاضل سوم کے تعاون سے شائع کی گئی ۔ ’’مطلع الانوار‘‘ مولوی یوسف اشرفی و مولوی یوسف نظامی طلبہ فاضل سوم کے تعاون سے شائع کی گئی ۔ ’’ شمیم الانوار ‘‘طلبہ کامل دوم کے تعاون سے طبع کی گئی ۔ ’’انوار التمجید فی ادلۃ التوحید‘‘ طلبہ فاضل دوم کے تعاون سے شائع کی گئی ۔’’رسالہ خلق افعال‘‘ طلبہ مولوی اول کے تعاون سے طبع ہوئی ’’انوار اللہ الودود و خدا کی قدرت‘‘ طلبہ مولوی دوم کے تعاون سے شائع کی گئی ۔ ’’الانوار البھیۃ‘‘ طالبات فاضل اول و دوم وسوم کلیۃ البنات جامعہ نظامیہ کے تعاون سے شائع ہوئی ۔ ’’مرجع غیب‘‘ طلبہ فاضل اول کے تعاون سے طبع کی گئی ۔ ’’حقیقت فاتحہ و استعانت بالاولیاء‘‘ طلبہ عالم اول کے تعاون سے شائع کی گئی ۔ احسن التوضیح فی مسئلۃ التراویح‘‘ کی اشاعت طلبہ عالم دوم کے تعاون سے عمل میں آئی ۔ ’’فتاوی نظامیہ‘‘ کی اشاعت محترم سمین احمد خان صاحب سانچہ توپ کے تعاون سے عمل میں آئی ۔ 
اس طرح پوری آب و تاب کے ساتھ مجلس اشاعت العلوم اپنا اشاعتی سفر جاری رکھے ہوئے ہے جو شیخ الاسلام علیہ الرحمہ کے فیضان کا مظہر ہے ۔ ا س اشاعتی کارواں میں مولانا شاہ محمد فصیح الدین نظامی مہتمم کتب خانہ جامعہ نظامیہ‘ مولانا محمد خالد علی ‘ مولانا سید واحد علی اساتذہ جامعہ و فاضل و کامل کے طلبہ شریک سفر رہے ۔ اللہ تعالی تمام کی سعی قبول فرمائے ۔ 
مجلس اشاعت العلوم کے طباعتی پروگرام ، ارکان کی امداد اور اہل خیر اصحاب کے عطیات سے تکمیل پاتے ہیں علم دوست اصحاب سے خواہش کی جاتی ہے کہ مجلس اشاعت العلوم کی کتب کی طباعت کے لئے تعاون فرمائیں ۔ مجلس اشاعت العلوم کی تمام مطبوعات دفتر مجلس اشاعت العلوم جامعہ نظامیہ شبلی گنج حیدرآباد سے 10 تا 4 ساعت دن حاصل کی جاسکتی ہیں ۔ نیز دکن ٹریڈرس مغل پورہ ۔ نظام عطا ، لاڈ بازار ۔ مکتبہ اہل سنت و الجماعت ، چوک ۔ تاج بک ڈپو ، چوک ۔ اسٹوڈنٹس بک ڈپو ، چارمینار ۔ حسامی بک ڈپو ، حیدرآباد اور مکتبہ رفاہ عام گلبرگہ پر بھی یہ کتب دستیاب ہیں ۔ فون نمبر 9849071327 / 24416847 پر حاصل کی جاسکتی ہیں ۔ وباﷲ التوفیق ۔۔

No comments:

Post a Comment

Popular Posts

Recent In Internet

Popular Posts