Breaking

Saturday, June 20, 2020

جامعہ نظامیہ سے متعلق تحریر کردہ مقالوں کی ایک وضاحتی فہرست jamiya Nizamiya Se Mutaliq Tahreer Karda Maqaloun Ki Ek Wazahati Fehrist


جامعہ نظامیہ سے متعلق تحریر کردہ مقالوں کی ایک وضاحتی فہرست

مولانا سید محبوب قادری صاحب
معلم اردو جامعہ نظامیہ


جامعہ نظامیہ کیا ہے؟ وہ بحر کبریائی ہے۔ جس کی نسبت یہ کہنا کہ اس کی آب و ہوا مسیحائی، جس کی بنیاد ایثار و قربانی، جس کی مٹی و پتھر نسخۂ اکسیر کے مترادف الفاظ اس کی حقیقت کو بیان نہیں کرسکتے۔
باخدا یہ تو شمع ایمان ہے، بحر کبریائی ہے، جس کا دن عید اور رات شب برأت ہے۔
اس برج اقلیم کو فلک رتبہ، سراج انجمن، شمہ از شمائل و ذرہ از خورشید خصائل، بلند مرتبہ، سحر کرشمہ، جم شوکت، فریدوں فر، حامل برہانِ قاطع، شیخ الاسلام، عارف باللہ، الحافظ محمد انواراللہ فاروقی انوارؔ فضیلت جنگ خان بہادر علیہ الرحمہ نے ۱۲۹۲ھ ہجری کو متعارف کرایا۔۔
اس شمع ایمن کی نورانی کرنوں سے کائنات کے ظلمات جہل کی تاریکی کو ختم کرکے ایک روشن صبح طلوع کرنے میں سعیٔ پیہم جاری رکھی ہے۔ اس بحر کبریائی سے جو وابستہ ہوا وہ دریا بن کر مختلف ناموں رکن الدین، ابراہیم ادیب، ابوالوفاء الافغانی، مفتی محمد رحیم الدین، سید احمد حسین امجد، بہاؤالدین صفی، حمیداللہ (رحمہم اللہ) سے جانا جاتا ہے۔ اور ان سے بے شمار نہریں، تالاب اور کنویں نکلے یہ سلسلہ جاری و ساری ہیں۔ اس علمی فیض رسانی کی ایک کڑی ’’جامعہ نظامیہ سے یا جامعہ نظامیہ کے بارے میں لکھے گئے مقالوں کی ایک وضاحت فہرست‘‘ ہے۔
اس مضمون سے اس بحر بے کراں کا خاکہ تو نہیں بن سکتا لیکن اس جامعہ کی نسبت ایک موہوم تصور سے انکار کی گنجائش بھی نہیں رہتی۔۔

مقالہ برائے Ph.D عربی

عنوان : ’’دراسۃ مقارنۃ بین تفسیر البیضاوی و تفسیر النسفی‘‘
مقالہ نگار : ممتاز بیگم
نگران : حضرت العلامہ مولانا عبداللہ قریشی الازہری ، نائب شیخ الجامعہ و خطیب مکہ مسجد
جامعہ : جامعہ نظامیہ حیدرآباد دکن
سنہ ادخال : فروری ۲۰۰۵ء
اس مقالہ میں مقالہ نگار نے جملہ چار ابواب کے علاوہ ایک مقدمہ اور ایک خاتمہ اور ہر باب کے تحت حسب ضرورت ذیلی ابواب بھی قائم کئے ہیں۔ 
باب اول : اس باب میں تفسیر کے لغوی اصطلاحی معنی کے علاوہ تفسیر کے بنیادی اصول پر گفتگو کی ہے۔
باب دوم : اس باب میں تفسیر بیضاوی کے فنی نکات و اسرار کے علاوہ صاحب بیضاوی کے حالات زندگی پر بحث کی ہے۔
باب سوم : اس باب میں تفسیر نسفی کے فنی نکات و اسرار پر بحث کی ہے۔
باب چہارم : اس باب میں تفسیر بیضاوی و نسفی کے مابین موازنہ کیا ہے۔ یہ ایک قلمی مقالہ ہے جوکہ ۳۸۷ صفحات پر مشتمل ہے اس کا ایک نسخہ کتب خانہ جامعہ نظامیہ میں موجود ہے۔

مقالہ برائے Ph.D عربی

عنوان : ’’انموذج اللبیب فی ذکر خصائص الحبیب‘‘ مصنف جلال الدین عبدالرحمن السیوطی
مقالہ نگار : محمد صفی اللہ خان
نگران : حضرت العلامہ مولانا عبداللہ قریشی الازہری نائب شیخ الجامعہ و خطیب مکہ مسجد 
جامعہ : جامعہ نظامیہ حیدرآباد دکن
سنہ ادخال : جنوری ۲۰۰۳ء ذوالقعدہ ۱۴۲۳ھ
یہ مقالہ دراصل ایک صحیح متن کی بازیافت ہے جوکہ جلال الدین عبدالرحمن السیوطی کی عربی تصنیف ’’انموج اللبیب فی ذکر خصائص الحبیب‘‘ ہے۔ اس متن کی بازیافت کیلئے مقالہ نگار نے تین نسخوں کو سامنے رکھ کر اصل متن تک رسائی کی سعی کی ہے۔ (۱) نسخۂ اصفیہ (۲) نسخۂ جامعہ نظامیہ (۳) نسخہ جامعہ عثمانیہ۔ یہ مقالہ کمپیوٹر کیا ہوا ہے جس کی ضخامت ۳۴۸ صفحات ہے۔ یہ مقالہ کتب خانہ جامعہ نظامیہ میں موجود ہے۔

مقالہ برائے Ph.D عری

عنوان : ’’کیف طلع فجرالاسلام فی الدکن‘‘
مقالہ نگار : خدیجہ جبین
نگران : حضرت العلامہ مولانا محمد خواجہ شریف شیخ الحدیث جامعہ نظامیہ
جامعہ : جامعہ نظامیہ حیدرآباد دکن
سنہ ادخال : جنوری ۲۰۰۷ء
مقالہ نگار نے اس مقالہ کو چار ابواب ایک مقدمہ اور ایک خاتمہ کے علاوہ حسب ضرورت ذیلی ابواب بھی قائم کئے ہیں۔
باب اول : اس باب میں دکن کی تعریف اور اس کے جغرافیہ پر بحث کی ہے۔
باب دوم : اس باب میں دکن میں اسلام کے ارتقاء پر مواد پیش کیا گیا ہے۔
باب سوم : اس باب میں قطب شاہی سلاطین کی اسلامی رواداری کو ظاہر کیا گیا ہے۔
باب چہارم : اس باب میں دکن میں اسلام کے ارتقاء میں علماء و صوفیاء اور دینی مدارس اور جامعات اور دیگر تعلیمی ادارہ جات کے حالات و کوائف درج ہیں۔ یہ مقالہ کمپیوٹر کیا ہوا ہے جس کی ضخامت ۲۹۱ صفحات ہے۔ اس مقالہ کا ایک نسخہ کتب خانہ جامعہ نظامیہ میں موجود ہے۔

مقالہ برائے Ph.D عربی

عنوان : ’’حروف الزیادۃ فی اللغۃ والقران الکریم‘‘
مقالہ نگار : محمد یاسر القصمانی
نگران : حضرت العلامہ مولانا محمد عبداللہ قریشی الازہری نائب شیخ الجامعہ و خطیب مکہ مسجد 
جامعہ : جامعہ نظامیہ حیدرآباد دکن
سنہ ادخال : ۲۳؍ ربیع الاول ۱۴۴۲ھ
یہ مقالہ بنیادی طور پر عربی لسانیات سے تعلق رکھتا ہے جس میں مقالہ نگار نے عربی زبان و ادب اور قرآن مجید میں زائد حروف کے فوائد اور اس کے خواص پر بحث کی ہے۔ یہ مقالہ ایک قلمی نسخہ ہے جو کہ ۴۱۰ صفحات پر ہے جس کا ایک نسخہ کتب خانہ جامعہ نظامیہ میں موجود ہے۔

مقالہ برائے Ph.D عربی

عنوان : ’’اہل البدع والاھواء فی رواۃ الصحاح السۃ‘‘
مقالہ نگار : سید رئیس الدین
نگران : حضرت العلامہ مولانا محمد خواجہ شریف شیخ الحدیث جامعہ نظامیہ
جامعہ : جامعہ نظامیہ حیدرآباد دکن
مقالہ نگار نے اس مقالہ کو ایک مقدمہ اور ایک خاتمہ کے علاوہ تین ابواب کے تحت حسب ضرورت ذیلی ابواب بھی قائم کئے ہیں۔
باب اول : اس باب میں بدعت کی تعریف اور اس کی حقیقت پر بحث کی گئی ہے اور مسلمانوں کے درمیان پائے جانے والے مذہبی اختلافات پر معقول اور منقول ہر دو انداز سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ مزید اس باب میں بدعت کا تاریخی جائزہ لیا گیا ہے۔
باب دوم : اس باب میں بین فرقہ جات کے مذہبی اختلافات مثلاً قدریہ، جبریہ، معتزلہ، خوارج اور مرجیہ وغیرہ کا تاریخی، معقول اور منقول ہر جہت سے بحث کی ہے۔
باب سوم : اس باب میں حدیث کی تعریف اور اس کی ضرورت و اہمیت اور مختلف محدثین کے ادوار اور علم رجال اور طرق احادیث اور مزید اصحاب صحاح ستہ کے علاوہ دیگر محدثین پر معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ یہ مقالہ کمپوز کیا ہوا ہے جس کی ضخامت ۳۶۲ صفحات ہے۔ جس کا ایک نسخہ کتب خانہ جامعہ نظامیہ میں موجود ہے۔

مقالہ برائے Ph.D عربی

عنوان : ’’مزایا المخطوطات العربیۃ الکتبۃِ الجامعہ النظامیۃ‘‘
مقالہ نگار : حافظ محمد فاروق حسین
نگران : حضرت العلامہ مولانا محمد عبداللہ قریشی الازہری و نائب شیخ الجامعہ و خطیب مکہ مسجد
جامعہ : جامعہ نظامیہ حیدرآباد دکن
سنہ ادخال : محرم الحرام ۱۴۲۸ھ مطابق جنوری ۲۰۰۷ء
مقالہ نگار نے اپنے مقالہ کو بنیادی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ پہلا حصہ تین ذیلی ابواب پر مشتمل ہے جس میں جامعہ نظامیہ اور بانی جامعہ نظامیہ اور کتب خانہ جامعہ نظامیہ پر بحث کی گئی ہے۔
دوسرا حصہ دس۱۰ ذیلی ابواب میں تقسیم کیا ہے جس میں مقالہ نگار نے جامعہ نظامیہ کے شعبہ مخطوطات میں موجود مختلف فنون کے مخطوطات پر بحث کی ہے۔ یہ مقالہ کمپیوٹر کیا ہوا ہے جس کی ضخامت ۳۶۶ صفحات ہے جس کا ایک نسخہ کتب خانہ جامعہ نظامیہ میں موجود ہے۔

مقالہ برائے Ph.D عربی

عنوان : ’’منھج ابن جریر الطبری فی آیات الصفات مقارنا باراء غیرہ من العلماء‘‘
مقالہ نگار : حسام الدین حسین صرصور
نگران : حضرت العلامہ مولانا محمد خواجہ شریف شیخ الحدیث جامعہ نظامیہ
جامعہ : جامعہ نظامیہ حیدرآباد دکن
سنہ ادخال : ۱۶؍ شعبان ۱۴۲۱ ھ مطابق ۱۳؍ نومبر ۲۰۰۰ء
مقالہ نگار نے اپنے مقالہ کو ایک مقدمہ اور ایک خاتمہ کے علاوہ پانچ ابواب میں تقسیم کیا ہے۔
باب اول : اس باب میں امام طبری کے حالات زندگی پر بحث کی ہے۔
باب دوم : اس باب میں تاویل و تغویض پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
باب سوم : اس باب میں محکم، متشابہ پر وضاحتی گفتگو ملتی ہے۔
باب چہارم : اس باب میں اللہ سبحانہ تعالیٰ کے صفات پر بحث کی گئی ہے۔
باب پنجم : اس باب میں امام طبری کا عندیہ نصوص متشابہ کے بارے میں اور دیگر علمائے مخالفین و موافقین کا نظریہ پر بحث کی ہے۔ یہ مقالہ کمپیوٹر کیا ہوا ہے جس کی ضخامت ۵۹۷ صفحات ہے جس کا ایک نسخہ کتب خانہ جامعہ نظامیہ میں موجود ہے۔

مقالہ برائے Ph.D عربی

عنوان : ’’مرویات اہل البیت الاطھار فی کتب المحدثین‘‘
مقالہ نگار : سید عبدالروف
نگران : حضرت العلامہ مولانا محمد خواجہ شریف شیخ الحدیث جامعہ نظامیہ
جامعہ : جامعہ نظامیہ حیدرآباد دکن۔
سنہ ادخال : ربیع الاول ۱۴۲۴ہجری
مقالہ نگار نے اپنے اس مقالہ میں اہل بیت سے متعلق قرآن و حدیث میں جو فضائل و خصوصیات آئی ہیں ان کو مختلف کتب احادیث اور آیات مبارکہ کی روشنی میں پیش کیا ہے۔
یہ مقالہ کمپیوٹر کیا ہوا ہے جس کی ضحامت ۶۰۸ صفحات ہے۔ اس مقالہ کا ایک نسخہ کتب خانہ جامعہ نظامیہ میں موجود ہے۔

مقالہ برائے Ph.D عربی

عنوان : ’’معایر الحلال والحرام فی الاطعمۃ والاشربۃ والادویۃ المستحضرات الجمیلیۃ علی 
ضوء الکتاب والسنۃ‘‘
مقالہ نگار : علی مصطفیٰ یعقوب
نگران : پروفیسر محمد حسن ھیتو
جامعہ : جامعہ نظامیہ حیدرآباد دکن
سنہ ادخال : یکم ؍ ربیع الثانی ۱۴۲۹ھ مطابق اپریل ۲۰۰۸ء
مقالہ نگار نے اس مقالہ کو ایک مقدمہ ایک خاتمہ کے علاوہ تین ابواب اور حسب ضرورت ذیلی ابواب بھی قائم کئے ہیں۔
باب اول : اس باب میں طیبات، خبائث، مضر ، نجاست اور انسانی اعضاء وغیرہ کا بطور دوائی استعمال کے بارے میں قرآن و حدیث علمائے صالحین کے مستند اقوال کی روشنی میں بحث کی ہے۔
باب دوم : اس باب میں خنزیر، شراب کے ذریعہ بنائے جانے والی اشیاء کے احکام پر بحث کی ہے۔ 
باب سوم : اس باب میں عالمی سطح پر تیار ہونے والی اشیاء کے حلال و حرام ہونے کے معیارات پر بحث کی ہے۔
یہ مقالہ کمپیوٹر کیا ہوا ہے جس کی ضخامت ۵۴۷ صفحات ہے جس کا ایک نسخہ کتب خانہ جامعہ نظامیہ میں موجود ہے۔

مقالہ برائے Ph.D عربی

عنوان : ’’الاسرۃ فی القرآن الکریم‘‘
مقالہ نگار : م ۔ محمد مشیش
نگران : حضرت العلامہ مولانا محمد خواجہ شریف شیخ الحدیث جامعہ نظامیہ
جامعہ : جامعہ نظامیہ حیدرآباد دکن
سنہ ادخال : ۲؍ اگسٹ ۲۰۰۵ء
مقالہ نگار نے اس مقالہ کو ایک مقدمہ چار ابواب اور ایک خاتمہ کے علاوہ حسب ضرورت ذیلی ابواب بھی قائم کئے ہیں۔ 
باب اول : اس باب کو خاندان کا خاکہ سے موسوم کیا ہے جس میں عورت کے مقام و مرتبہ کو قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان کیا ہے اور عاقدین کے ایک دوسرے پر حقوق کو بھی کتاب و سنت کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے۔
باب دوم : اس باب میں طلاق، عدت، نفقہ، حق پرورش پر معقول و منقول ہر دو طریقوں کو اپنایا ہے۔ 
باب سوم : اس باب میں والدین پر اولاد کی تربیت و آداب کے حقوق پر بحث کی ہے۔ 
باب چہارم : اس باب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی حیات طیبہ پر بحث کی ہے کہ اللہ کے رسول کے معاملات اپنے ازواج مطہرات اور اولاد کے ساتھ کس طرح ہوتے تھے ۔ یہ مقالہ کمپیوٹر کیا ہوا ہے جس کی ضخامت ۳۲۴ صفحات ہے۔ جس کا ایک نسخہ کتب خانہ جامعہ نظامیہ میں موجود ہے۔

مقالہ برائے عربی

عنوان : ’’العالم الکبیر ابوالحسنات محمد عبدالحئی الفرنگی محلی حیاتہ و خدماتہ الجلیلۃ‘‘
مقالہ نگار : حافظ سید محمود حسین
نگران : حضرت العلامہ مفتی خلیل احمد نائب شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
جامعہ : جامعہ نظامیہ حیدرآباد دکن
سنہ ادخال : ۱۹۸۲ء
مقالہ نگار نے یہ مقالہ عبدالحئی فرنگی محلی کی حیات و خدمات پر تحریر کیا ہے جس میں علمی لیاقت، علوم قرآن و سنت کی ادراک اور ان کی معاصر علمائے کرام و دانشوروں میں مقام و مرتبہ کو واضح کیا ہے۔ یہ ایک دستی مقالہ ہے جس کی ضخامت ۱۷۵ صفحات ہے۔ اس مقالہ کا ایک نقل شیخ الاسلام لائبریری اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن میں موجود ہے۔

مقالہ برائے Ph.D عربی

عنوان : ’’فی شرح لامیۃ العرب۔ للرضوی تحقیق ودراسۃ و شرح و تعلیق‘‘
مقالہ نگار : اسماء بنت حسن ھیتو
نگران : ڈاکٹر محمد سیف اللہ شیخ الادب جامعہ نظامیہ
جامعہ : جامعہ نظامیہ حیدرآباد دکن
سنہ ادخال : ۱۴۲۵۔۱۴۲۶ ہجری مطابق ۲۰۰۴ء ۔ ۲۰۰۵ عیسوی
یہ مقالہ دراصل حضرت العلامہ ابراہیم ادیب رضوی علیہ الرحمہ کے قلم سے دیوان ’’لامیۃ العرب‘‘ کی تنقیح و تشریح ہے۔ جس میں مقالہ نگار نے ابراہیم ادیب کی سوانح عمری اور ان کی عربی مہارت اور عربی شعر گوئی پر قدرت کے ساتھ ساتھ دیگر شعراء کے لکھے گئے لامیات سے موازنہ بھی کیا ہے۔ مزید اس مقالہ میں لامیۃ العرب کے ایک ایک شعر کو شعری و فنی لحاظ سے پرکھا گیا ہے اور اس میں موجود صنائع و بدائع کی ہنر مندی کو بھی واضح کیا ہے۔ یہ مقالہ کمپیوٹر کیا ہوا ہے جس کی ضخامت ۲۹۱ صفحات ہے۔ جس کا ایک نسخہ کتب خانہ جامعہ نظامیہ میں موجود ہے۔

مقالہ برائے Ph.D اُردو

عنوان : ’’حضرت شیخ الاسلام مولانا محمد انواراللہ فاروقی علیہ الرحمہ شخضیت علمی و ادبی کارنامے‘‘
مقالہ نگار : کے محمد عبدالحمید اکبر
نگران : ڈاکٹر محمد اعظم
جامعہ : یونیورسٹی آف پونہ
سنہ ادخال : ۱۹۹۵ء
مقالہ نگار نے اس مقالہ کی ترتیب و تزئین کیلئے ایک مقدمہ چھ ۶ ابواب اور ایک ضمیمہ قائم کیا ہے۔
باب اول : اس باب میں بانی جامعہ کے حالات زندگی اور شخصیت پر بحث کی ہے۔
باب دوم : اس باب میں بانی جامعہ کے علمی و اصلاحی کارناموں پر بحث کی ہے۔
باب سوم : اس باب میں بانی جامعہ کی شعر گوئی پر بحث کی ہے۔
باب چہارم : اس باب میں بانی جامعہ کی نثر نگاری پر بحث کی ہے۔
باب پنجم : اس باب میں بانی جامعہ کا اسلوب نگارش پر بحث کی ہے۔
باب ششم : اس باب میں کتابیات کی وضاحت کی ہے۔
یہ مقالہ ایک دستی مقالہ ہے جس کی ضخامت ۴۱۳ صفحات ہے۔ اس کی ایک نقل کتب خانہ جامعہ نظامیہ میں موجود ہے اور یہ مقالہ مجلس اشاعت العلوم سے جنوری ۲۰۰۰ء میں شائع کیا گیا ہے۔۔

مقالہ برائے ایم فل فارسی

عنوان : ’’سھم اساتیذ معروف جامعہ نظامیہ حیدرآباد در توسعہ زبان و ادبیات فارسی‘‘
مقالہ نگار : حافظ محمد اسماعیل ہاشمی
نگران : ڈاکٹر شاہد نوخیز اعظمی
جامعہ : مولانا آزادنیشنل اُردو یونیورسٹی، شعبہ فارسی
سنہ ادخال : ۲؍ جولائی ۲۰۱۳ء
مقالہ نگار نے اس مقالہ کی ترتیب کیلئے ایک مقدمہ چار ابواب اور ایک خاتمہ قائم کیا ہے۔
باب اول میں جامعہ نظامیہ کا علمی و ادبی اور تاریخی پس منظر پیش کیا ہے۔
باب دوم  میں بانی علیہ الرحمہ کے فارسی خدمات کو پیش کیا ہے۔
باب سوم میں علمائے جامعہ نظامیہ کی فارسی خدمات کا جائزہ پیش کیا ہے۔
باب چہارم میں جامعہ نظامیہ کے کتب خانہ میں موجود فارسی مخطوطات پر بحث کی ہے۔ یہ مقالہ کمپیوٹر کیا ہوا ہے۔ مقالہ نگار کے ذاتی کتب خانہ میں موجود ہے۔ اس مقالہ میں ضرورت کے تحت رنگین تصاویر بھی شامل کئے گئے ہیں۔

مقالہ برائے ایم فل اُردو

عنوان : ’’جامعہ نظامیہ کے اُردو مخطوطات کی ایک وضاحتی فہرست‘‘
مقالہ نگار : سید ضمیرالدین
نگران : ڈاکٹر شمس الھدیٰ دریاآبادی
جامعہ : مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی شعبہ اُردو
سنہ ادخال : ۲۰۰۸ء
مقالہ نگار نے اپنے اس مقالہ کی ترتیب ایک مقدمہ اور آٹھ ابواب اور ایک خاتمہ پر دی ہے۔ 
باب اول : اس باب میں جامعہ نظامیہ کا پس منظر اور بانی جامعہ کا تعارف پیش کیا ہے۔
باب دوم : اس باب میں اُردو شاعری پر موجود جملہ ۴۴ مخطوطات کا ذکر کیا ہے۔
باب سوم : اس باب میں اُردو تصوف و اخلاق کے جملہ (۳۸) مخطوطات کا تعارف پیش کیا ہے۔
باب چہارم : اس باب میں تفسیر، قرأت و تجوید، قواعد صرف و نحو کے جملہ (۷) مخطوطات کا تعارف پیش کیا ہے۔
باب پنجم : اس باب میں اُردو حدیث، سیرت النبی اور وظائف وادعیہ کے جملہ (۹) مخطوطات کا تعارف پیش کیا ہے۔
باب ششم : اس باب میں اُردو عقائد و کلام کے جملہ (۱۴) مخطوطات کا تعارف پیش کیا ہے۔
باب ہفتم : اس باب میں اُردو فقہ کے جملہ (۱۰) مخطوطات کا تعارف پیش کیا ہے۔ 
باب ہشتم : اس باب میں وہ مخطوطات جوکہ مختلف فنون مثلاً تاریخ، تذکرہ و سیر، قیافہ و نجوم، لغت اُردو، منطق و حکمت و فلسفہ کے جملہ (۲۰) مخطوطات کا تعارف پیش کیا ہے۔
یہ مقالہ کمپوز کیاہوا ہے جس کی ضخامت ۲۵۲ صفحات ہے۔ اس کے علاوہ مقالہ نگار نے اہم مخطوطات کی کچھ نقلیں بھی مقالہ میں شامل کی ہیں۔ یہ مقالہ کتب خانہ جامعہ نظامیہ میں موجود ہے۔

مقالہ برائے ایم فل اُردو

عنوان : ’’جامعہ نظامیہ کی صحافتی خدمات‘‘
مقالہ نگار : سید محبوب قادری
نگران : پروفیسر خالد سعید
جامعہ : مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی، شعبہ اُردو
سنہ ادخال : ۲۰۱۲ء 
مقالہ نگار نے اس مقالہ کی ترتیب کیلئے چار ابواب، ایک مقدمہ اور ایک خاتمہ کے علاوہ حسب ضرورت ذیلی ابواب بھی قائم کئے ہیں۔
باب اول : اس باب میں جامعہ نظامیہ اور بانی جامعہ اور ان کے معاصر و معاونین علماء کا تعارف پیش کیا ہے۔
باب دوم : اس باب میں صحافت اور جامعہ نظامیہ ہر دو کے اغراض و مقاصد کو پیش کیا ہے۔
باب سوم : اس باب میں جامعہ نظامیہ کی صحافتی خدمات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔
باب چہارم : اس باب میں جامعہ نظامیہ کی صحافتی خدمات کا ایک جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
یہ مقالہ کمپیوٹر کیا ہوا ہے جس کی ضخامت (۲۵۰) صفحات ہے جس کا ایک نسخہ کتب خانہ جامعہ نظامیہ میں موجود ہے۔
سنا رضواں بھی جس کا خوشہ چین ہے

وہ بیشک جامعہ نظامیہ کی سرزمین ہے




No comments:

Post a Comment

Popular Posts

Recent In Internet

Popular Posts